امریکی خارجہ پالیسی، پاکستان کا کردار، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور بدلتا ہوا عالمی نظام
(ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ)
باب اول
سرد جنگ، افغانستان پر سوویت حملہ، اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی
تعارف
بیسویں صدی کا دوسرا نصف عالمی سیاست میں دو بڑی طاقتوں، امریکہ اور سوویت یونین، کے درمیان نظریاتی، عسکری اور سیاسی مقابلے کا دور تھا، جسے سرد جنگ (Cold War) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں طاقتیں براہِ راست ایک دوسرے سے جنگ نہیں لڑیں، لیکن ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں مختلف علاقائی تنازعات کے ذریعے اپنے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتی رہیں۔
افغانستان اس عالمی کشمکش کا اہم میدان بن گیا۔
سوویت یونین کا افغانستان میں داخلہ
دسمبر 1979ء میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ سوویت قیادت کا مؤقف تھا کہ وہ افغان حکومت کی درخواست پر داخلی استحکام قائم کرنے کے لیے آئی ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اسے خطے میں سوویت توسیع پسندی قرار دیا۔
اس واقعے نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کی سیاسی سمت تبدیل کر دی۔
امریکہ کی حکمتِ عملی
امریکہ نے افغانستان میں براہِ راست فوج بھیجنے کے بجائے ایک بالواسطہ حکمتِ عملی اختیار کی۔ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین کو ایک طویل اور مہنگی جنگ میں الجھانا تھا تاکہ اس کی عسکری اور اقتصادی طاقت کمزور ہو۔
اس مقصد کے لیے امریکہ نے پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر افغان مزاحمتی گروہوں (مجاہدین) کی مالی، عسکری اور تربیتی مدد کی۔ اس خفیہ تعاون کو بعد میں امریکی تاریخ کے بڑے خفیہ آپریشنز میں شمار کیا گیا۔
پاکستان کا تاریخی کردار
پاکستان اس جنگ میں صرف ایک جغرافیائی راستہ نہیں تھا بلکہ ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار بھی تھا۔ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے، جنہیں پناہ، خوراک اور بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔
پاکستان کی سرزمین سے امدادی سامان افغانستان پہنچایا گیا، جبکہ پاکستانی اداروں نے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تعاون کیا۔
اس کردار نے پاکستان کو وقتی طور پر عالمی اہمیت دلائی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے مسائل بھی پیدا ہوئے جن کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔
سوویت یونین کی شکست: ایک عسکری کامیابی یا نئی ابتلا؟
1989ء میں سوویت افواج افغانستان سے واپس چلی گئیں۔ مغربی دنیا نے اسے سرد جنگ میں اپنی اہم کامیابی قرار دیا۔
لیکن سوال یہ تھا کہ جنگ جیتنے کے بعد افغانستان کا مستقبل کیا ہوگا؟
بدقسمتی سے اس سوال کا کوئی جامع بین الاقوامی جواب سامنے نہ آ سکا۔ افغانستان میں مختلف مجاہد تنظیموں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہو گئی، جس نے ملک کو ایک نئی خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں بہت سے ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کی توجہ افغانستان کی تعمیرِ نو سے ہٹ گئی، اور ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس سے بعد میں طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کو ابھرنے کا موقع ملا۔
پاکستان کے لیے جنگ کے غیر متوقع نتائج
اگرچہ پاکستان نے سرد جنگ میں امریکہ کے اہم اتحادی کے طور پر کامیابی حاصل کی، لیکن اس کامیابی کی قیمت بھی بہت زیادہ تھی۔
لاکھوں مہاجرین کی مستقل آبادکاری؛
کلاشنکوف کلچر کا فروغ؛
منشیات کی اسمگلنگ؛
مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ؛
سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندی؛
داخلی سلامتی کے مسائل۔
یہ عوامل آنے والی دہائیوں میں پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے رہے۔
تحقیقی تجزیہ
کئی مؤرخین کا خیال ہے کہ سوویت یونین کی شکست سرد جنگ کے خاتمے میں ایک اہم عنصر تھی، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صرف افغان جنگ ہی سوویت یونین کے انہدام کی وجہ بنی۔ داخلی اقتصادی مسائل، سیاسی اصلاحات، حکومتی کمزوریاں اور دیگر عوامل بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
اسی طرح یہ بھی ایک سادہ مفروضہ ہوگا کہ مجاہدین براہِ راست طالبان یا داعش میں تبدیل ہو گئے۔ تاریخی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان اور داعش مختلف ادوار، مختلف حالات اور مختلف تنظیمی ڈھانچوں کے تحت وجود میں آئے، اگرچہ بعض افراد یا نیٹ ورکس میں تسلسل ضرور پایا جاتا ہے۔
باب اول کا خلاصہ
افغانستان پر سوویت حملہ صرف ایک علاقائی جنگ نہیں تھا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلے کا اہم باب تھا۔ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے افغان مزاحمت کی حمایت کی، جس سے سوویت یونین کو عسکری دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم جنگ کے بعد افغانستان میں مضبوط سیاسی نظام قائم نہ ہونے سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس نے آنے والے عشروں میں پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔

No comments:
Post a Comment