مراعات سے پہلے مساوات: ایک منصفانہ معاشرے کے لیے اسلامی اور آئینی تصور
تعارف
کسی بھی مہذب، مضبوط اور پائیدار ریاست کی بنیاد انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی پر قائم ہوتی ہے۔ جب معاشرے میں چند طبقات کو غیر معمولی مراعات حاصل ہوں جبکہ عام شہری بنیادی حقوق سے محروم ہوں، تو وہاں ناانصافی، بدعنوانی، غربت اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ اسلام نے چودہ سو سال قبل ایسا نظام پیش کیا جس میں انسان کی عزت، حقوق اور انصاف کو ہر قسم کی نسلی، معاشی اور سیاسی برتری پر فوقیت دی گئی۔
قرآن کریم اعلان کرتا ہے:
"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔"
(سورۃ النساء: 58)
یہ آیت اسلامی ریاست کی بنیاد بیان کرتی ہے کہ اقتدار، ذمہ داریاں اور فیصلے صرف اہلیت اور انصاف کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ خاندانی یا سیاسی تعلقات کی بنیاد پر۔
اسلامی ریاست میں مساوات کا تصور
اسلام کے نزدیک تمام انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ کسی عرب کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر، یا کسی امیر کو غریب پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ اور کردار کے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں واضح فرمایا کہ تمام انسان برابر ہیں۔ یہی وہ اصول تھا جس نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں خلیفہ اور عام شہری قانون کے سامنے یکساں جواب دہ تھے۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ کی مثال
حضرت ابو بکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالتے ہی فرمایا:
"تم میں سے کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں، اور تم میں سے طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے دوسروں کا حق واپس نہ لے لوں۔"
یہ الفاظ اسلامی حکمرانی کا بنیادی منشور ہیں، جہاں حکومت کا مقصد طاقتور کی حفاظت نہیں بلکہ مظلوم کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا نظامِ عدل
حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں قانون سب کے لیے برابر تھا۔ گورنروں اور سرکاری اہلکاروں کا باقاعدہ احتساب کیا جاتا تھا، ان کے اثاثوں کی نگرانی ہوتی تھی، اور اگر کسی نے ناجائز دولت حاصل کی تو اسے بیت المال میں واپس جمع کرایا جاتا تھا۔
آپؓ کا مشہور قول تھا:
"اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔"
یہ احساسِ ذمہ داری آج کے حکمرانوں کے لیے بھی ایک بہترین نمونہ ہے۔
مساوی مواقع، نہ کہ مساوی صلاحیت
اسلام ہر شخص کو ترقی کا یکساں موقع فراہم کرتا ہے، لیکن ذمہ داریاں ہمیشہ اہلیت، دیانت اور قابلیت کی بنیاد پر سونپنے کا حکم دیتا ہے۔
لہٰذا:
- ہر بچے کو معیاری تعلیم کا حق حاصل ہو۔
- ہر نوجوان کو روزگار کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
- سرکاری ملازمتیں سفارش یا رشوت کے بجائے میرٹ پر دی جائیں۔
- قانون امیر اور غریب کے درمیان فرق نہ کرے۔
دولت اور زمین کی منصفانہ تقسیم
اسلام نجی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن دولت اور زمین کے غیر منصفانہ ارتکاز کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
"تاکہ دولت صرف تمہارے مالدار لوگوں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔"
(سورۃ الحشر: 7)
اسی اصول کی روشنی میں ریاست ایسے قوانین بنا سکتی ہے جو:
- بنجر زمین کو آباد کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔
- وسیع رقبے کو محض ذخیرہ اندوزی کے لیے رکھنے کی حوصلہ شکنی کریں۔
- زرعی اصلاحات کے ذریعے زمین کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائیں۔
- زکوٰۃ، عشر اور بیت المال کے نظام کے ذریعے غریب طبقات کی مدد کریں۔
اس مقصد کا ہدف کسی کا جائز حق چھیننا نہیں بلکہ معاشرے میں انصاف، معاشی توازن اور عوامی فلاح کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔
مساوی تنخواہوں کا سوال
یہ خیال کہ تمام ملازمین کی تنخواہیں یکساں ہوں، مساوات کے جذبے سے پیدا ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر مختلف نوعیت کے کام، ذمہ داریاں، مہارت، تعلیم اور تجربہ مختلف معاوضے کا تقاضا کرتے ہیں۔
اسلامی اصول یہ ہے کہ:
- ہر محنت کش کو اس کی محنت کا منصفانہ معاوضہ ملے۔
- کم از کم اجرت ایسی ہو کہ ہر خاندان باعزت زندگی گزار سکے۔
- غیر ضروری مراعات، شاہانہ سرکاری اخراجات اور بے جا تنخواہی تفاوت کو محدود کیا جائے۔
- کسی بھی طبقے کو غیر معمولی معاشی برتری حاصل نہ ہو جو معاشرتی ناانصافی کو جنم دے۔
آئینی ریاست اور اسلامی اصول
ایک مضبوط آئین وہی ہوتا ہے جو:
- قانون کی بالادستی قائم کرے۔
- ہر شہری کو برابر کا تحفظ دے۔
- بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کرے۔
- احتساب کا مؤثر نظام قائم کرے۔
- ریاستی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے۔
جب آئینی اصول اسلامی عدل، دیانت اور امانت داری کے ساتھ مل جائیں تو ریاست مضبوط، مستحکم اور خوشحال بن جاتی ہے۔
نتیجہ
ایک منصفانہ معاشرہ صرف نعروں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ ایسے نظام سے وجود میں آتا ہے جہاں قانون سب پر یکساں لاگو ہو، مواقع سب کو برابر ملیں، دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو، اور حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے ادوار ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انصاف، احتساب، مساوات اور عوامی خدمت ہی کامیاب ریاست کی بنیاد ہیں۔ اگر آج کی مسلم ریاستیں ان اصولوں کو جدید آئینی تقاضوں کے ساتھ نافذ کریں تو غربت، بدعنوانی، معاشی ناہمواری اور سماجی ناانصافی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر شہری عزت، انصاف اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

No comments:
Post a Comment