پاکستان-کے-آبی-نظام-کا-ازسرِ-نو-جائزہ:

 

 بین الصوبائی آبی انصاف اور پائیدار تقسیم کی جانب ایک عملی راستہ

پانی زندگی، زراعت، توانائی، خوراک، صنعت اور قومی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان میں دریائے سندھ کا نظام ملک کی معیشت، زرعی پیداوار اور توانائی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت 1991ء میں چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کے درمیان واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ (Water Apportionment Accord 1991) طے پایا تاکہ دریائی پانی کی تقسیم کو ایک متفقہ آئینی اور انتظامی بنیاد فراہم کی جا سکے۔

پاکستان-کے-آبی-نظام-کا-ازسرِ


تاہم تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد ملک کی آبادی، موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلنے، زیرِ زمین پانی کی کمی، زرعی ضروریات اور صوبوں کی بدلتی ہوئی معاشی و سماجی ضروریات نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا موجودہ نظام آج کے حالات کے مطابق منصفانہ اور مؤثر ہے یا اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ موجودہ تقسیم ان کے وسائل، ضروریات اور قربانیوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔

خیبر پختونخوا کا مؤقف

خیبر پختونخوا پاکستان کے ان بالائی علاقوں میں واقع ہے جہاں سے دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی صوبے میں تربیلا جیسے بڑے آبی ذخائر اور پن بجلی کے منصوبے قائم ہیں، جن سے پورا ملک فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبے کے مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ:

  • پانی کے بنیادی ذرائع اسی صوبے میں واقع ہیں۔
  • بڑے ڈیموں اور پن بجلی منصوبوں کی وجہ سے مقامی آبادی سماجی، ماحولیاتی اور معاشی اثرات برداشت کرتی ہے۔
  • آئین کے مطابق پن بجلی سے حاصل ہونے والے نیٹ ہائیڈل منافع کی ادائیگی مکمل شفافیت اور بروقت ہونی چاہیے۔
  • پانی اور توانائی پیدا کرنے والے علاقوں کی ترقی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جانے چاہئیں۔

ان نکات پر ماضی میں بھی وفاق اور صوبے کے درمیان مختلف اوقات میں مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

بلوچستان کی ضروریات

بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر پانی کی دستیابی سب سے کم ہے۔ مسلسل خشک سالی، زیرِ زمین پانی کی کمی اور بارشوں میں کمی نے اس صوبے کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

اس لیے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں پانی کی تقسیم کرتے وقت صرف ماضی کی زرعی زمین کو بنیاد بنانے کے بجائے درج ذیل عوامل کو بھی مدنظر رکھا جائے:

  • صوبے کا رقبہ
  • پانی کی قلت
  • مستقبل کی زرعی ضروریات
  • پینے کے پانی کی ضروریات
  • موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
  • غذائی تحفظ

پنجاب کا مؤقف

پنجاب کو 1991ء کے معاہدے کے تحت سب سے زیادہ پانی اس لیے ملا کہ اس وقت اس کے زیرِ آباش کاشت شدہ رقبہ اور نہری نظام سب سے زیادہ تھا۔

تاہم بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر کسی صوبے کے قدرتی وسائل پورا ملک استعمال کرتا ہے تو اس صوبے کو مالی اور ترقیاتی لحاظ سے مناسب حصہ بھی ملنا چاہیے۔ دوسری جانب یہ بھی رائے موجود ہے کہ موجودہ تقسیم تمام صوبوں کے اتفاق سے طے ہوئی تھی، اس لیے کسی بھی تبدیلی کے لیے دوبارہ قومی اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔

دنیا سے حاصل ہونے والے اسباق

دنیا کے مختلف ممالک نے مشترکہ دریاؤں کی تقسیم کے لیے ایسے نظام اختیار کیے ہیں جن میں انصاف، تعاون اور سائنسی بنیادوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔

چند نمایاں مثالیں یہ ہیں:

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ (1960ء)، جس نے سیاسی اختلافات کے باوجود دریائی پانی کی تقسیم کا مستقل طریقہ کار فراہم کیا۔
  • میکونگ ریور کمیشن، جہاں کئی ممالک مشترکہ منصوبہ بندی کے ذریعے دریائی وسائل کا انتظام کرتے ہیں۔
  • سینیگال ریور بیسن آرگنائزیشن، جہاں رکن ممالک پانی کے منصوبوں کے فوائد مشترکہ طور پر تقسیم کرتے ہیں۔
  • امریکہ میں کولوراڈو دریا کے معاہدے، جہاں ریاستوں کے درمیان وقتاً فوقتاً پانی کی تقسیم کا ازسرِنو جائزہ لیا جاتا ہے۔
  • آسٹریلیا کا مرے۔ڈارلنگ بیسن، جہاں پانی کی تقسیم سائنسی تحقیق، ماحولیاتی تحفظ اور باہمی مشاورت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ آبی معاہدے مستقل طور پر جامد نہیں رہتے بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

مستقبل کے لیے اصلاحات

پاکستان کے لیے ایک جدید قومی آبی پالیسی درج ذیل نکات پر مشتمل ہو سکتی ہے:

  • پانی کی دستیابی کا آزاد اور سائنسی جائزہ۔
  • ہر چند برس بعد پانی کی تقسیم کا ازسرِنو جائزہ۔
  • تمام صوبوں کے لیے شفاف ڈیجیٹل واٹر مانیٹرنگ نظام۔
  • پانی کی تقسیم کا آزادانہ آڈٹ۔
  • جدید آبپاشی نظام کے ذریعے پانی کے ضیاع میں کمی۔
  • نئے آبی ذخائر، چھوٹے ڈیم اور زیرِ زمین پانی کی بحالی۔
  • دریاؤں کے ماحولیاتی بہاؤ کا تحفظ۔

وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم

دنیا کے کئی ممالک میں قدرتی وسائل پیدا کرنے والے علاقوں کو خصوصی مالی فوائد، ترقیاتی فنڈز اور رائلٹی دی جاتی ہے تاکہ مقامی آبادی کو بھی ان وسائل کا مناسب فائدہ پہنچ سکے۔

پاکستان میں بھی قومی اتفاقِ رائے سے درج ذیل تجاویز پر غور کیا جا سکتا ہے:

  • بڑے ڈیموں والے اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈ۔
  • متاثرہ علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے پر خصوصی سرمایہ کاری۔
  • آئین کے مطابق پن بجلی سے متعلق واجبات کی بروقت ادائیگی۔
  • مستقبل کے آبی منصوبوں میں وسائل پیدا کرنے والے صوبوں کے لیے منصفانہ مالی شراکت کے طریقہ کار پر غور۔

ادارہ جاتی اصلاحات

اس مسئلے کا مستقل حل صرف آئینی اداروں کے ذریعے ممکن ہے۔

اس مقصد کے لیے:

  • ایک خودمختار قومی آبی کمیشن قائم کیا جائے جس میں تمام صوبوں کے نمائندے، انجینئرز، آئینی ماہرین، ماہرینِ معاشیات اور آبی ماہرین شامل ہوں۔
  • 1991ء کے معاہدے کا جدید سائنسی اعدادوشمار کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔
  • کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI) کے کردار کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
  • تمام فیصلے قومی اتفاقِ رائے سے کیے جائیں تاکہ کوئی صوبہ خود کو محروم محسوس نہ کرے۔

آگے کا راستہ

پانی کو سیاسی تنازع کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی اتحاد، مشترکہ ترقی اور بین الصوبائی اعتماد کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

ایک جامع قومی مکالمہ چاروں صوبوں کے جائز خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے ایسا نظام تشکیل دے سکتا ہے جس میں:

  • پنجاب کی زرعی ضروریات،
  • سندھ کے ماحولیاتی تقاضے،
  • خیبر پختونخوا کے آبی وسائل اور پن بجلی میں کردار،
  • اور بلوچستان کی پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات

سب کو متوازن انداز میں مدنظر رکھا جائے۔

ایک ایسا نظام جو آئین، سائنسی تحقیق، شفافیت اور بین الصوبائی اتفاقِ رائے پر مبنی ہو، نہ صرف پاکستان کے وفاق کو مضبوط کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے منصفانہ، پائیدار اور ذمہ دارانہ استعمال کی ضمانت بھی بنے گا۔

No comments:

Post a Comment

KP,-AFGHANISTAN-AND-PAKISTAN’S-NATIONAL-INTEREST

  KP, AFGHANISTAN AND PAKISTAN’S NATIONAL INTEREST A Federal–Provincial Partnership Framework for Security, Economic Development, Border Go...